| داتا ہیں سخی سرور ہر بات نرالی ہے |
| کب جھولی کبھی جائے اس در سے جو خالی ہے |
| سرکار سے کھاتے ہیں اور نازاں ہیں قسمت پر |
| اس بابِ سخا پر ہی کونین سوالی ہے |
| ہاں اُس کو لگے اچھا دروازہ یہ دلبر کا |
| کچھ سمجھے نہ وہ جنت جو دل سے بلالی ہے |
| دیں دید سخی ہادی ہو عید فقیروں کی |
| میں دیکھوں حسیں روضہ اور دیکھوں جو جالی ہے |
| ہے چہرہ بدر اُن کا والیل حسیں زلفیں |
| وہ حسن میں ہیں یکتا سیرت بھی معالی ہے |
| وہ روپ کے ساگر ہیں اور دان نرالے یوں |
| لولاک ملا سہرا اور فیض بھی عالی ہے |
| ہوں اُن سے حسیں جلوے کب ملتے ہیں ہستی میں |
| اس حسن کی دنیا میں ہر جلوہ جمالی ہے |
| دارین میں ہیں یہ ہی اک پیارے حبیب اللہ |
| جبریل سنو کہتے یہ حسن مثالی ہے |
| کب تھا نہ کبھی ہو گا دلدار نبی جیسا |
| تصویر ہے اُن کی جو خود جاں نے بنالی ہے |
| اس قبر میں یہ آقا اک مونسِ دلبر ہیں |
| تھی لاج جو لرزے میں آقا نے سنبھالی ہے |
| محمود سخی سلطاں تو ادنیٰ ہے ہستی میں |
| کر شکر تو مولا کا کس در پہ سوالی ہے |
معلومات