غزل
ہمارے مقدر کو کیا ہو گیا ہے
سمجھ سے ہے باہر یہ کیوں سو گیا ہے
جہاں فصل گل تھی وہاں اب ہیں کانٹے
کوئی بیج ایسے کہیں بو گیا ہے
زمانے سے آگے کبھی ہم کھڑے تھے
وہی ہم سے آگے ابھی ہو گیا ہے
قلم جن کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تھے
انھی کا یہاں اب تو خوں ہو گیا ہے
ستارہ ہمارے مقدر کا تھا جو
وہی آسماں میں کہیں کھو گیا ہے
سبھی مل کے بیٹھو مسلسل یہ سوچو
مقدر ہمارا ہی کیوں سو گیا ہے
GMKHAN

0
3