چہروں کی رونق اُڑ گئی، تابندگی باقی نہیں
اس قوم کے افکار میں بالیدگی باقی نہیں
لالچ کی اندھی دوڑ میں، سب بیچ ڈالا ملک بھی
ان رہزنوں کے ذہن میں شرمندگی باقی نہیں
انصاف کا میزان بھی، بکنے لگا دربار میں
قاضی ترے احکام میں، سنجیدگی باقی نہیں
دیوارِ استبداد اب، گرنے لگی ہے ٹوٹ کر
ظالم ترے اس راج میں، پائندگی باقی نہیں
بانٹا گیا ہے قوم کو، صوبوں کی اک تفریق میں
دل میں کسی کے دیس کی وابستگی باقی نہیں
سر پر کفن باندھے ہوئے، نکلے ہیں ہم مقتل میں اب
کس نے کہا عشاق کی دیوانگی باقی نہیں
دانشوری بکنے لگی، دربار کی دہلیز پر
درباریوں کے ذہن میں فرزانگی باقی نہیں
چھپ کر نہتوں پر ستم، تاریکیوں میں ڈھا دیے
ان حاکموں کی ذات میں مردانگی باقی نہیں
اک ہو گئے ہیں آج ہم، دردِ وطن کی آگ سے
اس قوم کے طبقات میں بیگانگی باقی نہیں
ہم نے اٹھائی ہے بغاوت کی صدا اب جوش سے
مظلوم کے حالات میں درماندگی باقی نہیں
ہم پرسکوں رہنے لگے، طوفان کی زد پر بھی اب
دل میں ہمارے آج کل، آشفتگی باقی نہیں
چھینیں گے ہم اپنا یہ حق، ظالم ترے جبڑوں سے بھی
مزدور کے لہجے میں اب، شائستگی باقی نہیں
مایوسیوں کے دن گئے، بیداریوں کا رقص ہے
ہمت جواں ہے قوم کی، آزردگی باقی نہیں
دھوئیں گے ہم اس خاک کو، محنت کی اب برسات سے
غداریوں کے رنگ کی، آلودگی باقی نہیں
پرکھا ہے ہم نے غور سے، ان حاکموں کے جھوٹ کو
ان رہزنوں کے واسطے وارفتگی باقی نہیں
زنجیرِ غم کو توڑ کر نکلے ہیں طوفانوں میں ہم
آزاد ہیں افکار اب، افسردگی باقی نہیں
کچے ارادے اب کہاں، فولاد ہیں اب عزم بھی
ان پختہ تر سوچوں میں اب، ناپختگی باقی نہیں
پھولوں کی رنگت کھل گئی، بادِ صبا کے رقص سے
گلشن کے ان حالات میں، پژمردگی باقی نہیں
منزل عیاں ہے سامنے، رستہ کھلا ہے دوستو
مقصد کے اس ادراک میں پیچیدگی باقی نہیں
کاغذ کے ان ٹکڑوں کی اب، کیا حیثیت کیا التجا
نوٹوں کے اس انبار میں، ارزندگی باقی نہیں
المیر نے لکھی ہے جو، خونِ جگر سے یہ غزل
ان ظالموں کے رخ پہ اب رخشندگی باقی نہیں

0
1