| کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں |
| دوست سب اچّھے، کسی کو آزمانے کا نہیں |
| ناز و عشوے کا تمہیں ہے اختیارِ کُل، مگر |
| جی کے بہلانے کا ہے، دل میں سمانے کا نہیں |
| ساری پونجی میں نے کر ڈالی تو ہے صرفِ علاج |
| سچ کہوں مجھ کو افاقہ ایک آنے کا نہیں |
| کس طرح کے کرب میں گزرے ہیں یہ پینتیس سال |
| گرچہ وعدہ تھا، اکیلے چھوڑ جانے کا نہیں |
| کیا ریاست ماں، کہ چھینے سب ذرائع رزق کے |
| کچھ وسیلہ اب تو روزی کے کمانے کا نہیں |
| تو نے بھائی! سر پہ تانا ہے تعلق سائباں |
| کیا کروں اب حوصلہ احسان اٹھانے کا نہیں |
| کب بکھر جائے نہیں معلوم، آندھی زور پر |
| گھونسلہ ہے چار تنکے، آشیانے کا نہیں |
| آج اک لڑکے کی حرکت پر مجھے کہنا پڑا |
| لاکھ بنتا ہو مگر اچّھے گھرانے کا نہیں |
| سب نے اپنی استطاعت کا لتاڑا ہے مجھے |
| پر صِلہ حسرتؔ وفاؤں کا، بتانے کا نہیں |
| رشید حسرتؔ کوئٹہ |
| ۲۳ اپریل، ۲۰۱۶ |
معلومات