| ہم نے دروازے آہستہ کھولے مگر |
| پھر بھی گلیوں نے آہٹ ہماری سنی |
| ایک خاموش چہرے نے دیکھا ہمیں |
| اور آنکھوں نے چپ چاپ کچھ کہہ دیا |
| ہم نے چاہا فقط اتنا، پردہ ہٹے |
| جو نظر سے چھپا تھا، نظر آ سکے |
| اپنی مٹی پہ قدموں کے بنتے نشاں |
| ایک لمحہ تو آنکھوں سے ہم دیکھ لیں |
| رات نے جب ہمارے لبوں پر رکھے |
| اپنے خوفوں کے پتھر، صدا رک گئی |
| ایک آواز اندر ہی اٹھتی رہی |
| ہم اگر چپ بھی تھے—ہم صدا دے گئے |
| کچھ دریچے تو مدت سے خاموش تھے |
| کچھ چراغوں پہ گردِ زمانہ جمی |
| ایک بچے نے پردہ ہٹایا ذرا |
| اور کمرے میں پوری سحر آ گئی |
| ہم سے پہلے بھی کچھ لوگ گزرے یہاں |
| جن کے ناموں کے اب کوئی کتبے نہیں |
| پھر بھی رستوں کی مٹی بتاتی رہی |
| وہ گئے بھی تو رستوں کو رخ دے گئے |
| ایک تنہائی جب دوسری سے ملی |
| پھر تو خاموشی تنہا رہی ہی نہیں |
| ایک دل دوسرے دل سے ملتا گیا |
| اور خاموشی آواز بنتی گئی |
| جتنے در بند تھے، دستکیں دے گئے |
| کتنی خاموشیوں کو زباں دے گئے |
| صبح آئی مگر شہر اپنی جگہ |
| وہ ہی دیوار و در اور وہی فاصلے |
| فرق اتنا تھا، کچھ آنکھیں روشن ہوئیں |
| ہم گزر تو گئے - پر صدا دے گئے |
معلومات