| خاک میں مل گئے الفت کے گلستاں جاناں |
| اب کہاں وہ ترے وعدے، ترے پیماں جاناں |
| تیری صورت کو ترستی ہیں مری آنکھیں تو |
| کاش ہوتے کبھی تم بھی یہاں مہماں جاناں |
| وقت کی گرد نے دھندلا دیئے یادوں کے نقوش |
| بجھ گئے پیار کے روشن تھے جو امکاں جاناں |
| ہم نے مانا کہ زمانے نے بہت دکھ دیئے ہیں |
| پر ترا غم ہے ابھی تک سرِ دیواں جاناں |
| کون پہچان سکے گا جو ستم بیتے تھے |
| بھر گئے شہر میں زخموں سے نمایاں جاناں |
| تجھ سے بچھڑے تو میسر نہ ہوئی چین کی نیند |
| خواب سارے ہوئے بکھرے ہوئے ساماں جاناں |
| تیری دہلیز پہ دم توڑ رہی ہے یہ حیات |
| اب تو کر دے مری مشکل کوئی آساں جاناں |
| جس کے دامن میں چھپاتے تھے وہ آنسو عادل |
| آج وہ ہاتھ بھی تھے ہم سے گریزاں جاناں |
معلومات