دَرِ ہستی کھلے جب بھی، مِری حیرت پہ کھلتا ہے
سفر کا آخری رستہ، مِری وحشت پہ کھلتا ہے
​گلے مل کر بھی دل اپنا جدا ہی رہ گیا تجھ سے
جدائی کا نیا رستہ، عجب قربت پہ کھلتا ہے
​نہ سمجھے تھے جسے ہم عمر بھر قربت کے موسم میں
وہ نکتہ آخرش اک لمحۂ رخصت پہ کھلتا ہے
​ہجومِ خلق سے اک فاصلہ رکھ کر سمجھ آیا
درونِ دل کا ہر رستہ، مِری خلوت پہ کھلتا ہے
​غمِ دوراں کے چکر میں کٹی ہے زندگی ساری
نفس کی ڈور کا نغمہ، ذرا فرصت پہ کھلتا ہے
​دیارِ غیر کی سڑکوں پہ جب تنہا نکلتا ہوں
ہوا کا ہر خنک جھونکا، مِری غربت پہ کھلتا ہے
​بظاہر روشنی کا شور برپا ہے زمانے میں
ہمارا روزنِ زنداں، فقط ظلمت پہ کھلتا ہے
​پرانے مقبروں پر جب گزرتی ہے ہوا شب کی
تو شاہوں کا ہر اک مدفن، درِ عبرت پہ کھلتا ہے
​ستاروں سے پرے جا کر جو دیکھا اس سمندر کو
سماواتِ ازل کا در، فقط وسعت پہ کھلتا ہے
​ترے شعروں میں المیرؔ اب نوائے درد ایسی ہے
کہ تیری فکر کا ہر در نئی رفعت پہ کھلتا ہے

0
5