وہ جو کلیوں کو سکھاتا رہا کِھلنے کا ہنر
اس کو ہنستے ہوئے گلشن کی فضا ڈھونڈتی ہے
ایسا چہرہ تھا کہ بس چاند بھی شرما جائے
اس نشانی سے اسے خلقِ خدا ڈھونڈتی ہے

0
46