سنگ جوڑا تم نے میرا نام بھی
ہے چھپایا اس میں تیرا نام بھی
عشق کی اس بے خودی کے شہر میں
آ گیا ہے یاد چہرہ، نام بھی
زندگی کی دھوپ میں ہر موڑ پر
بن گیا ہے ایک سایہ، نام بھی
خط جو لکھے تھے محبت میں کبھی
ان میں روشن ہے سنہرا نام بھی
چاندنی راتوں میں اکثر دیکھنا
چاند کے ہمراہ بکھرا، نام بھی
تیری چاہت میں مگن ہیں اس طرح
دل کی دھڑکن، وقت ٹھہرا، نام بھی
دھڑکنوں میں گونجتا ہے رات دن
بن گیا آنکھوں کا تارا، نام بھی
ہونٹ جب بھی مسکراتے ہیں مرے
لگ رہا ہے کتنا پیارا، نام بھی
اب لبوں پر ذکر اس کا روز و شب
شادؔ! دل پر ایک پہرا، نام بھی

0
6