ثنائے نبی سے سجائیں بیاں
رہے سینہ نوری فضا ضوفشاں
جو ذکرِ نبی سے رہے تر زباں
نہیں ہے خسارہ نہ اس میں زیاں
ہے الطافِ جاں سے سجی کائنات
کریں ذکر اُن کا زمیں آسماں
قدم آئے اُن کے سرِ عرش ہیں
کہ زد میں نبی کی ہے یہ لامکاں
تجلیٰ دنیٰ میں ہے قوسین سے
رسائی خرد کی نہیں ہے یہاں
یہ مقصودِ ہستی یہ دلدار ہیں
ہیں سلطانِ دیں جو شہے مرسلاں
جو مطلوب و طالب میں تھی گفتگو
نہ محمود تھا دوسرا درمیاں

1
6
مختصر تنقیدی خلاصہ
یہ نعتِ شریف عقیدۂ رسالت، معراجِ مصطفیٰ ﷺ، ذکرِ نبوی کی برکت، اور حضور ﷺ کے کائناتی مقام کو نہایت سنجیدہ، قرآنی اور فکری انداز میں پیش کرتی ہے۔
اس میں نہ جذباتی مبالغہ ہے اور نہ فلسفیانہ الجھاؤ، بلکہ:
نعت کو ایمان کی روشنی قرار دیا گیا ہے
ذکرِ رسول ﷺ کو نفعِ مطلق بتایا گیا ہے
معراج کو عقل سے بالا مگر وحی سے ثابت حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے
اور حضور ﷺ کو مقصدِ ہستی اور سلطانِ دین کے طور پر بیان کیا گیا ہے
یہ نعت علمی بھی ہے، عقیدتی بھی، اور نعتیہ روایت کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہے۔ انشا اللہ

0