| ثنائے نبی سے سجائیں بیاں |
| رہے سینہ نوری فضا ضوفشاں |
| جو ذکرِ نبی سے رہے تر زباں |
| نہیں ہے خسارہ نہ اس میں زیاں |
| ہے الطافِ جاں سے سجی کائنات |
| کریں ذکر اُن کا زمیں آسماں |
| قدم آئے اُن کے سرِ عرش ہیں |
| کہ زد میں نبی کی ہے یہ لامکاں |
| تجلیٰ دنیٰ میں ہے قوسین سے |
| رسائی خرد کی نہیں ہے یہاں |
| یہ مقصودِ ہستی یہ دلدار ہیں |
| ہیں سلطانِ دیں جو شہے مرسلاں |
| جو مطلوب و طالب میں تھی گفتگو |
| نہ محمود تھا دوسرا درمیاں |
معلومات