نقابوں کے پیچھے نہ نیت چھپے گی
کہاں تک تمھاری حقیقت چھپے گی
اگر بھیڑیے وادیوں میں پھریں گے
تو جنگل میں کیا آدمیت چھپے گی
تبسم لبوں پر سجانے سے یارو
جو دل میں دبی ہے اذیت چھپے گی
مساجد میں غیبت کرو گے اگر تم
عبادت کہ پردے میں غیبت چھپے گی
نیا دور ہے بے حیائی کا شیدا
کہ اب جا کے غاروں میں غیرت چھپے گی
بتا دیں گی آنکھیں سبھی حال دل کا
چھپانے سے کب دل کی حالت چھپے گی
نہ خنجر چھپے گا تری آستیں میں
نہ اس مسکراہٹ سے نفرت چھپے گی

0
5