بابِ نبی پہ ملتی ہر درد کی دوا ہے
تریاق زہر کا بھی امراض سے شفا ہے
خیر الوریٰ حبیبی کونین کے ہیں سرور
اُن کی عطا سے حاصل دارین کو بھلا ہے
باراں ہیں رحمتوں کے سرکار کے نگر پر
شہرِ نبی پہ چھائی رحمت بھری گھٹا ہے
رونق فضائے کن میں عکسِ جمالِ جاں ہے
انوارِ مصطفیٰ سے ارض و سما سجا ہے
پہلے الست سے بھی جو تھا وجودِ نوری
اس نور نے ازل سے ارشادِ کن سنا ہے
لو لاک مصطفیٰ کو مولا نے شان دی ہے
کوثر پہ قبضہ پورا دلدار کو ملا ہے
محمود وجہہِ کن سلطانِ دوسریٰ ہیں
جن کے قدم سے چہرہ کونین کا کھلا ہے

0
3