| ہم پہ ایسا بھی تو ہوتا ہے اثر یادوں کا |
| آنکھ لگنے نہیں دیتا کبھی ڈر یادوں کا |
| ۔ |
| جب سے مرجھانے لگا ہے یہ شجر یادوں کا |
| ڈھونڈتا ہوں میں نیا اب کوئی گھر یادوں کا |
| ۔ |
| تھک گئے چلتے رہِ شوق پہ ہم آبلہ پا |
| ختم ہوتا ہی نہیں پھر بھی سفر یادوں کا |
| ۔ |
| دل کی کیا بات کریں اہل جنوں کے گھر بھی |
| چھایا رہتا ہے فسوں شام و سحر یادوں کا |
| ۔ |
| کب سے یہ چاہتے ہیں کوچ کریں یاں سے مگر |
| روک لیتا ہے ہر اک بار نگر یادوں کا |
| ۔ |
| یاد رکھنے کی نہ تھی بات وہ بھی یاد رہی |
| ہم کو لے ڈوبا مدثر یہ ہنر یادوں کا |
معلومات