سالہاسال
میں خوف کی نادیدہ حوالات کا قیدی بن کر
اپنی ہی ذات میں گم
خود سے مصروفِ تکلم رہ کر
قصرِ آسیب کی مانند جما رہتا تھا
میری پوشاک کا رنگ
میری کلائی کی گھڑی
میری گردن سے لٹکتا ہوا شوخ طلائی لاکٹ
انگلیوں میں سجی انگوٹھیاں، جنم رتنوں والی
میرے اوہام سے لڑنے کے سہارے تھے سبھی
مجھے انسانوں سے بڑھ کر یہ پیارے تھے کبھی
میں کہ ظاہر میں بہت صاحبِ تمکین بنا رہتا تھا
اور اندر سے بڑا سہما ڈرا رہتا تھا
ہر گزرتے ہوئے لمحے میں چھپا احساسِ زیاں
محفلوں میں میری گھمبیر خموشی کا فسوں
اور کسی بات پہ یک لخت گرجنا لڑنا
برملا اس سے چھلکتا ہوا ترچھا پن
تند افکار کے حملے ، ترش الفاظ کے  وار
دوستوں میں مجھے ممتاز کئے رکھتے تھے
سب عزیزوں کی دل و جان لیے رہتے تھے
میں نہیں ملتا تھا ، لوگ ملا کرتے
قابل بحث تھا ، ذکر کیا کرتے تھے
اب مری روح کی درگاہ پہ کوئی میلہ نہیں
ذہن میں بپھرے خیالات کا ریلہ نہیں
خامشی اتنی بھیانک ہے کہیں شور نہیں
اب جہاں میں ہوں، میرے سوا اور نہیں
نہ میں ملتا ہوں کسی سے نہ کوئی ملتا ہے
ایسی ویرانی ہے پتہ بھی نہیں ہلتا ہے
ہر طرف ایک خنک دھند سی ہے چھائی ہوئی
چاندنی دھند میں لپٹی ہوئی دھمکائی ہوئی
میں نہیں اور کوئی میرے بدن کا ہے مکیں
یہ میری روح نہیں ، ذہن نہیں ، میں بھی نہیں

0
2