| محفل میں ڈھونڈتا ہے وہ خلوت نہیں جسے |
| ہم دے چکے ہیں دل، کوئی عجلت نہیں جسے |
| اک شخص کر رہا ہے مرے قتل کی دعا |
| شاید ابھی امورِ محبت نہیں جسے |
| وہ مانتا ہے خود کو زمانے کا تاجدار |
| اپنے ہی دل پہ بھی تو حکومت نہیں جسے |
| کتنی سجی ہے دہر میں جھوٹوں کی کائنات |
| سچ بولنے کی اب کوئی عادت نہیں جسے |
| کیسے سمیٹے گا وہ بھلا کل کی دھوپ کو |
| آج اپنے ہی چراغ کی مدحت نہیں جسے |
| اس سنگ دل سے دادِ وفا مانگتے ہیں کیوں |
| تکلیفِ ناروائی پہ حیرت نہیں جسے |
| عادل غلامِ بے زر و بے نام ایسے ہیں |
| پروائے تخت و تاج یا عہدہ نہیں جسے |
معلومات