| نہ حالِ دل وہ سنتے ہیں، نہ استفسار کرتے ہیں |
| نہ اب وہ بات کرتے ہیں نہ ہم اصرار کرتے ہیں |
| کہ انکی آنکھ میں ٹھہری ہے کوئی بے نیازی سی |
| وہ اپنی چپ سے خود اپنا بھرم مسمار کرتے ہیں |
| یہ عقدہ اب کھلا جاکر، اسیرِ دشت الفت بھی |
| جہاں سے رہ نکلتی ہو، وہیں دیوار کرتے ہیں |
| ہوئی ہے جن کی خاطر ہم سے برہم ساری دنیا ہی |
| وہی اب غیر کی محفل میں ہم کو خوار کرتے ہیں |
| عجب یہ سرد مہری ہے اگرچہ اب بھی ملتے ہیں |
| نہ شکوہ سنج ہوتے ہیں، نہ ہم سے پیار کرتے ہیں |
| تعلق کی یہ کیسی ریت ہم دونوں نے رکھی ہے |
| کہ اب رسماً ہمی خود کو، ہمی پر بار کرتے ہیں |
| بھرم کی آگ میں جلتے ہوئے مفلس کے بچے بھی |
| سسکتے دم نکل جائے ، کہاں اظہار کرتے ہیں |
معلومات