| سب سے ملتے رہے، خفا سے رہے |
| اپنے ہی آپ سے جدا سے رہے |
| عمر بھر ہم جواب لکھتے رہے |
| کچھ سوالات ابتدا سے رہے |
| ہم نے رشتے بہت بچائے مگر |
| عمر بھر خود سے ہی خفا سے رہے |
| اپنے اندر تھے ٹوٹتے ہم بھی |
| لوگ واقف فقط ادا سے رہے |
| زندگی اپنی شرط پر چاہی |
| ہم کہاں وقت کی رضا سے رہے |
| جتنے وعدے تھے وقت کے ہاتھوں |
| آخرش سب فقط دلاسے رہے |
| سب ملا، پھر بھی دل بھرا ہی نہیں |
| ہم نہ جانے کیوں ایسے پیاسے رہے |
| ہم نے سب کی خطائیں یاد رکھیں |
| بے خبر اپنی ہی خطا سے رہے |
| شاہدؔ اپنے ہی آپ سے ہارے |
| اور ناراض ہم خدا سے رہے |
معلومات