| زمانے کو ہم الوداع کر چلے |
| جیے جس قدر سر اٹھا کر چلے |
| دعاؤں میں اب یاد رکھنا ہمیں |
| کہ ہم اپنے وعدے وفا کر چلے |
| بھلاؤ گے ان کو بھلا کس طرح |
| معطر جو دل کی فضا کر چلے |
| خدا ہو کرم کی نظر ان پہ، جو |
| شجر چاہتوں کے لگا کر چلے |
| جو روتے ہوئے قبر پر آئے تھے |
| ہوا کیا کہ اب مسکرا کر چلے |
معلومات