الہی شام سے پہلے وہ دل پگھل جائے
وگرنہ دن ڈھلے شاید یہ جاں نکل جائے
۔
نہ روح بے خبری میں مکاں بدل جائے
کہیں نہ نیند ہی میں میری جاں نکل جائے
۔
میں اپنے گھر کا ہوں تنہا سہارا کاش یہ دل
تمھارے حلقۂ زنجیر سے نکل جائے
۔
کبھی میں کوچۂ جاناں میں اس لیے بھی گیا
اگر ہو دید تو شاید یہ دل سنبھل جائے
۔
پیام دل جو لکھوں اشک روک لیتا ہوں
کہ لفظ مٹنے سے معنی نہیں بدل جائے
۔
ہوا ہے آج مرا چہرہ زرد ، تو خوش ہیں
تماشہ کیا ہو کہ یہ وقت کل بدل جائے
۔
مدثر اس لیے روئے ہم اس کے پاس بہت
کہ آنسوؤں ہی سے شاید وہ دل پگھل جائے

0
4