| ہیں بے شمار تارے ہر آسماں میں یارب |
| سیارے بھی ہیں لاکھوں ہر کہکشاں میں یارب |
| جب تک نہیں ملے گا انساں مجھے خلا میں |
| تب تک ہوں میں اکیلا تیرے جہاں میں یارب |
| ہیں بے شمار تارے ہر آسماں میں یارب |
| سیارے بھی ہیں لاکھوں ہر کہکشاں میں یارب |
| جب تک نہیں ملے گا انساں مجھے خلا میں |
| تب تک ہوں میں اکیلا تیرے جہاں میں یارب |
معلومات