فغاں دیکھتے ہیں، زیاں دیکھتے ہیں
زبوں حالی کی داستاں دیکھتے ہیں
ہے مقصد سے دوری، ہے بے التفاتی
اذیت بھرا پھر سماں دیکھتے ہیں
ہو اظہار حیرت یا شور مسرت
"ترے شہر کا کارواں دیکھتے ہیں"
یہی فلسفہ زیست کا ہے رفیقو
ڈگر در ڈگر امتحاں دیکھتے ہیں
جو تادیر عظمت کا ضامن تھا ناصؔر
وہ جاہ و حشم کا نشاں دیکھتے ہیں

0
16