دعا ہو کہ جائیں دیارِ نبی میں
نبی جی بلائیں دیارِ نبی میں
درودوں کے گجرے سجا کر رکھیں گے
چلےجائیں ساتھی دیارِ نبی میں
ہے رشکِ ارم یہ گلستاں مدینہ
وہ مولا دکھائیں دیارِ نبی میں
مدینے میں ملتا ہے ماوا دکھوں کا
دکھی مسکرائیں دیارِ نبی میں
ابر ہیں کرم کے سدا شہرِ جاں پر
کبھی غم نہ آئیں دیارِ نبی میں
ہیں سلطان اس جا سوالی نبی کے
جو قسمت جگائیں دیارِ نبی میں
اے محمود داتا نبی میرباں ہیں
وہ بگڑی بنائیں دیارِ نبی میں

2
9
جامع خلاصہ
یہ نعت مدینہ منورہ کو رحمت، مغفرت، سکونِ قلب اور نبی کریم ﷺ کی شفقت کا مرکز قرار دیتی ہے۔ ہر شعر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ نبی ﷺ کی نسبت سے مدینہ گناہ گاروں کی نجات، غم زدہ دلوں کی پناہ اور ایمان والوں کی خوشی کا سرچشمہ ہے۔

0
یہ **نعت** دراصل مدینۂ منورہ کی حاضری، حضور نبی کریم ﷺ کی محبت اور شفاعت کی امید کا جامع اظہار ہے۔ مختصر اور مستند وضاحت درج ذیل ہے:

* **مرکزی دعا:** شاعر کی خواہش ہے کہ اللہ کے فضل سے مدینہ جانا نصیب ہو، کیونکہ اصل بلاوا نبی کریم ﷺ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔
**حوالہ:** *وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ* (الأنفال: 33)

* **درود و سلام:** مدینہ کی حاضری درود کے نذرانے کے ساتھ ہو، کیونکہ درود قربِ رسول ﷺ کا ذریعہ ہے۔
**حوالہ:** *إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ* (الأحزاب: 56)

* **مدینہ کی فضیلت:** مدینہ کو جنت سے تشبیہ دی گئی ہے؛ یہ غموں کا مداوا اور سکون کی جگہ ہے۔
**حوالہ (حدیث):** “مدینہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے، جو میل کو دور کر دیتی ہے” (صحیح بخاری)

* **رحمت و امان:** مدینہ میں رحمت کے بادل ہیں، وہاں حقیقی غم باقی نہیں رہتے۔
**حوالہ:** *وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ* (الأنبیاء: 107)

* **شفاعت کی امید:** نبی ﷺ سلطان ہیں، اور ان کے در کے سوالی کامیاب ہوتے ہیں۔
**حوالہ (حدیث):** “میری شفاعت میری امت کے بڑے گناہ گاروں کے لیے ہے” (ترمذی)

* **اختتامی یقین:** شاعر (محمود) کو کامل یقین ہے کہ نبی ﷺ کی مہربانی بگڑی ہوئی تقدیر سنوار دیتی ہے۔
**حوالہ:** *وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاؤُوكَ* (النساء: 64)

**خلاصہ:** یہ نعت عشقِ رسول ﷺ، مدینہ کی روحانی برکت اور شفاعتِ نبوی ﷺ پر کامل یقین کا خوبصورت اظہار ہے۔