| قرابت تم نبی کی مانگتے ہو |
| حدیں بھی دین کی پھر پھاندتے ہو |
| ذرا سا غور کر لو حرکتوں پر |
| سبھی شیطان کی کیوں مانتے ہو |
| نبی تو درگزر کرتے رہے ہیں |
| گلا ہر بات پر تم کاٹتے ہو |
| ستم طائف میں سہ کر دی معافی |
| خطا لوگوں کی تم تو ڈھونڈتے ہو |
| "برے ہیں غیر مسلم" تم یہ کہہ کر |
| انہی کے دیس کو پھر بھاگتے ہو |
| نبی لائے تھے پیغامِ محبت |
| مگر تم سب میں نفرت بانٹتے ہو |
| مجسم رحم تھے ہم سب کے آقا |
| چلو سیرت پہ گر تم جانتے ہو |
معلومات