اے عمرِ فاروق کہاں ہو
امت کی حالت پہ دھ یاں ہو
دستِ ستم کو کیسے روکیں
اور کہاں تک آہ و فغاں ہو
نظمِ خلافت پھر ہو قائم
پھر اسلام کا حکم رواں ہو
ہر مسلم لبیک پکارے
جب بھی اس کو حکم اذاں ہو
قلب و نظر میں وسعت ہو تو
حق پھر تم پر کیوں نہ عیاں ہو
دشمن اس کو ہلا بھی نہ پائے
مومن ایسا کوہِ گراں ہو
ہر مومن کی ہے یہ خواہش
اس کا سر اور نوکِ سناں ہو

0
3