جسم کا انہدام خاموشی
روح کا انتقام خاموشی
حکم جاری ہوا قیامت کا
رات دن صبح شام خاموشی
بند کمروں میں چیخئے خود پر
پیشِ عالی مقام خاموشی
حرف بے صوت ہو گئے سارے
ہو کا عالم تمام خاموشی
جھوٹ کا شور سب کے کانوں پر
صدق کا التزام خاموشی
کتنی بنجر زمین ہے جس سے
اگ رہی ہے مدام خاموشی
ہم فقیروں کی آہ و زاری پر
چیختے ہیں غلام، خاموشی!
لب کشائی نہ کر سکے وہ بھی
جن پہ ٹھہری حرام خاموشی
عمر بھر شاعری سے کیا حاصل
بس یہی کل کلام، خاموشی

0
14