دیکھو کیسے ہجر منایا جاتا ہے
اشکوں سے بھی دیپ جلایا جاتا ہے
یادوں کی برسات سے بھیگے ساون میں
خود کو خود سے دور بٹھایا جاتا ہے
اک تتلی سا لمس سجا کر پلکوں پر
اک جگنو سے خواب چرایا جاتا ہے
جب ہچکی میں لے وفا کی برتی جائے
آہوں سے تب گیت اٹھایا جاتا ہے
تم پوچھو گے - درد کہاں رکھ دیتے ہو
کونپل کونپل باغ سجایا جاتا ہے

12