حقیقت جانتا ہوں پر زباں پر لا نہیں سکتا
بہت کچھ ذہن میں ہے جو لبوں پر آ نہیں سکتا
بہادر ہیں بہت وہ لوگ جو حق بات کرتے ہیں
میں تو کچھ بول کر منہ بند یہ کروا نہیں سکتا
مجھے پیاری بہت ہے زندگی کی نعمتِ اعلی
یہ موقع ایک ملتا ہے اسے پھر پا نہیں سکتا
عدم برداشت دنیا میں بڑھے جاتی ہے روز و شب
کوئی سچ بول کر میں پھر کہیں آ جا نہیں سکتا

0
8