کونین میں نرالا دربارِ مصطفیٰ ہے
ہستی میں سب سے اعلیٰ دربارِ مصطفیٰ ہے
روشن جہاں ہیں سارے ماہِ مبین سے یوں
دارین کا اُجالا دربارِ مصطفٰی ہے
تاروں میں کس نے بانٹی خیرات روشنی کی
چندہ نے کہہ یہ ڈالا دربارِ مصطفٰی ہے
ہستی کی وسعتوں میں پھیلا جو نور ہر جا
منبع یہ نور والا دربارِ مصطفیٰ ہے
دارین کھا رہے ہیں خیراتِ مصطفیٰ سے
جس نے جہاں سنبھالا دربارِ مصطفیٰ ہے
فیضانِ دلربا تھے پہلے ورود سے بھی
جس کا دہر گوالا دربارِ مصطفیٰ ہے
دونوں جہاں میں جاری الطاف جس سے سارے
محمود وہ نرالا دربارِ مصطفیٰ ہے

0
1
5
یہ نعتیہ کلام حضورِ اقدس ﷺ کی شانِ رحمت، عظمت، نورانیت اور فیضان کو نہایت محبت بھرے انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ کائنات کی اصل خیر، نور، ہدایت اور رحمت بارگاہِ رسالت ﷺ سے وابستہ ہے۔ ہر شعر میں عقیدت، نورِ نبوت، اور رحمتِ عالم ﷺ کا ذکر موجود ہے۔

**کونین میں نرالا دربارِ مصطفیٰ ہے
ہستی میں سب سے اعلیٰ دربارِ مصطفیٰ ہے**

“کونین” سے مراد دنیا اور آخرت دونوں جہان ہیں۔
شاعر کہتا ہے کہ دونوں جہانوں میں حضور ﷺ کی بارگاہ جیسی کوئی بارگاہ نہیں۔

“دربارِ مصطفیٰ” سے مراد:

* حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس،
* آپ ﷺ کی تعلیمات،
* آپ ﷺ کی رحمت،
* اور آپ ﷺ کی نسبت والا مقدس مقام ہے۔

“سب سے اعلیٰ” اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام مخلوق پر فضیلت عطا فرمائی۔

قرآنِ کریم:

> **وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ**
> “اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کردیا۔”

سورۃ الشرح، آیت ٤

**روشن جہاں ہیں سارے ماہِ مبین سے یوں
دارین کا اُجالا دربارِ مصطفٰی ہے**

“ماہِ مبین” یعنی روشن چاند۔
یہ حضور ﷺ کے نورانی حسن اور ہدایت کی مثال ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ جیسے چاند اندھیری رات کو روشن کرتا ہے، ویسے ہی حضور ﷺ نے دنیا اور آخرت دونوں کو نورِ ہدایت سے روشن کردیا۔

“دارین” یعنی دونوں جہان۔
یعنی دنیا کا سکون اور آخرت کی نجات دونوں حضور ﷺ کی تعلیمات سے وابستہ ہیں۔

قرآن:

> **قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ**
> “تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آگیا۔”

سورۃ المائدہ، آیت ١٥

بہت سے مفسرین نے یہاں “نور” سے مراد حضور ﷺ لیا ہے۔

**تاروں میں کس نے بانٹی خیرات روشنی کی
چندہ نے کہہ یہ ڈالا دربارِ مصطفٰی ہے**

یہ شعر نہایت خوبصورت استعاراتی انداز رکھتا ہے۔

شاعر تصور کرتا ہے کہ اگر چاند سے پوچھا جائے کہ ستاروں کو روشنی کس نے دی، تو وہ جواب دے گا کہ یہ سب فیضانِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔

یہاں “خیراتِ روشنی” سے مراد:

* ہدایت،
* نور،
* رحمت،
* اور وجود کی برکت ہے۔

یعنی کائنات کی ہر روشنی اصل میں نورِ نبوت ﷺ کی عطا ہے۔

**ہستی کی وسعتوں میں پھیلا جو نور ہر جا
منبع یہ نور والا دربارِ مصطفیٰ ہے**

“منبع” یعنی سرچشمہ۔

شاعر کہتا ہے کہ پوری کائنات میں جہاں کہیں خیر، نور، ہدایت اور رحمت نظر آتی ہے، اس کا اصل سرچشمہ حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔

یہ شعر نورِ محمدی ﷺ کے تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے صوفیہ اور کئی علماء نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو سراپا نور و رحمت بنایا۔

**دارین کھا رہے ہیں خیراتِ مصطفیٰ سے
جس نے جہاں سنبھالا دربارِ مصطفٰی ہے**

یعنی دنیا اور آخرت کی ہر نعمت حضور ﷺ کے وسیلے سے ملی۔

“خیراتِ مصطفیٰ” سے مراد:

* ایمان،
* قرآن،
* شریعت،
* ہدایت،
* رحمت،
* اور شفاعت ہے۔

“جس نے جہاں سنبھالا” یعنی انسانیت کو گمراہی سے نکال کر امن، عدل، عبادت اور اخلاق کی راہ دکھائی۔

قرآن:

> **وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ**
> “ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”

سورۃ الانبیاء، آیت ١٠٧

**فیضانِ دلربا تھے پہلے ورود سے بھی
جس کا دہر گوالا دربارِ مصطفٰی ہے**

“ورود” یعنی ظاہری تشریف آوری۔

شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ کے ظاہری دنیا میں تشریف لانے سے پہلے بھی آپ ﷺ کے فیوض و برکات موجود تھے۔

یہ اس حدیث کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے:

> “میں اُس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام مٹی اور روح کے درمیان تھے۔”

ترمذی

“دہر گوالا” یعنی زمانہ گواہ ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت اور برکت ازل سے چلی آرہی ہے۔

**دونوں جہاں میں جاری الطاف جس سے سارے
محمود وہ نرالا دربارِ مصطفٰی ہے**

“الطاف” یعنی مہربانیاں، رحمتیں، عنایتیں۔

شاعر آخر میں کہتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی تمام رحمتیں اور برکتیں حضور ﷺ کی نسبت سے جاری ہیں، اور اسی لیے دربارِ مصطفیٰ ﷺ سب سے نرالا اور عظیم ہے۔

“محمود” شاعر کا تخلص ہے، جہاں وہ اپنے عقیدے اور محبت کا اظہار کرتا ہے۔

مجموعی خلاصہ
یہ پوری نعت حضور ﷺ کی:

* عظمت،
* نورانیت،
* رحمت للعالمین ہونے،
* اور فیضانِ نبوت

کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک کائنات کی اصل روشنی، ہدایت اور خیر حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس سے وابستہ ہے۔ اس میں عقیدت، محبت، اور روحانی وابستگی کا گہرا اظہار موجود ہے۔

0