| کون سنتا ہے اس غریب کی بات |
| بات اور وہ بھی بد نصیب کی بات |
| مجھ کو اونچا سنائی دیتا ہے |
| پر سمجھ لیتا ہوں قریب کی بات |
| ہم نے ہر بات سادگی سے رکھی |
| اسنے کی جب بھی کی عجیب کی بات |
| لکھ کے رکھا ہے آبلوں نے سفر |
| دو قدم ہو کہ دو جریب کی بات |
| شہرِ خاموش میں مرے لوگو |
| کتنی چھوٹی ہے اب صلیب کی بات |
| عشق آباد تیری گلیوں میں |
| چل پڑی چل پڑی رقیب کی بات |
| لا دوا ہے مرض ترا شؔیدا |
| کتنی سچی تھی اُس طبیب کی بات |
معلومات