مدینے کے جلوے مجھے پھر دکھا دے
جو بگڑے ہیں طالع خدایا بنا دے
درِ مصطفیٰ پر عمر گزرے میری
مجھے سننے والا سدا یہ دعا دے
شہا اُڑ کر آؤں میں شہرِ مدینہ
مجھے بال و پر یا نبی جی دلا دے
میں دوری سے دیکھوں فضائے مدینہ
بصیرت سے پردے کریما ہٹا دے
بھرے داماں جائیں سخی در سے سائل
مجھے بھیک لینے کے ڈب تو سکھا سے
نہ جانوں کہاں پر مقدر ہیں سوئے
کرم سے خدایا انہیں بھی جگا دے
بھرے داماں محمود کا یا الہٰی
مدینے کے کاغذ اسے بھی تھما دے

1
4
یہ کلام **حمد و نعت** کا جامع خلاصہ ہے جس میں شاعر اللہ تعالیٰ کی **وحدانیت، صمدیت اور قدرت** کا اقرار کرتا ہے، پھر **مدینہ منورہ** اور **حضور نبی کریم ﷺ** سے والہانہ محبت، زیارت کی آرزو اور غلامی کی تمنا بیان کرتا ہے۔ آخر میں شاعر اپنی عاجزی کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ اسے مدینہ کی یاد، نبی ﷺ کی قربت اور رب کی دائمی عطا نصیب ہو۔

0