میں چپ رہوں تو مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
جہاں میں بول پڑوں راستے بدلتے ہیں
میں ننگے پاؤں چلا ہوں یہاں پہ بچپن سے
وہ کیسے ساتھ دیں اب ان کے پاؤں جلتے ہیں
جو مر گئے ہیں وہ آزاد ہو گئے کب سے
جو جی رہے ہیں یونہی عمر بھر وہ گلتے ہیں
ہمارے شہر میں بس دبدبے کی عزت ہے
غریبِ شہر کو یہ لوگ بس مسلتے ہیں
جو پہلا درس تھا ، تھا ضبطِ نفس کا شاہدؔ
اب اپنے جذبے کہیں سیپیوں میں پلتے ہیں

0
5