ترے خیال سے روشن ہے کائنات مری
ترے بغیر ہے ممکن کہاں حیات مری
ترے وجود سے واضح ہوئے ہیں معنی بھی
وگرنہ خاک میں گم تھیں سبھی صفات مری
میں اپنے آپ سے گزرا تو یہ خبر آئی
کسی نے سُن لی کہیں ہیں گزارشات مری
وہ ایک لمحہ کہ جس میں ترا خیال آیا
بدل گئی اسی پل حسِّ التفات مری
میں تیرے ہجر میں بکھرا تو یہ سمجھ پایا
سنور گئی مرے لہجے میں کائنات مری
کسی کے درد کو محسوس کرنا سیکھ لیا
اسی کے بعد ہوئیں ختم مشکلات مری
ترے فراق نے بخشی مجھے وہ بینائی
بنے ہیں زخم ہی تیرے دیئے نجات مری
چراغِ دل کو ہواؤں سے کیا ڈراتا میں
لہو سے روشن و تابندہ تھی حیات مری
خدا کو ڈھونڈنے نکلا تھا میں زمانے میں
مرے ہی قلب پہ اتری تھی واردات مری
ہزار بار زمانے نے آزمایا مجھے
مگر شکست نہ بن پائی کوئی مات مری
یہ عشق رہنما نکلا ہے میرا خود طارِق
اسی کے عکس سے روشن ہوئی ہے ذات مری

0
3