| نہ ہی لی خبر مرے حال کی ، نہ ہی کچھ سنی مری بات بھی |
| وہ یوں چل دیا کہ مرے بنا وہ گزار لے گا حیات بھی |
| ۔ |
| دلِ بے قرار یہ بات سن کوئی ڈھونڈ اور ہی چارہ گر |
| یہ ترے مرض سے ہیں بے خبر ،نہیں ان کے بس کی یہ بات بھی |
| ۔ |
| اسی قحطِ عشق کے حال میں یہ نگر ہی دل کا اجڑ گیا |
| اسی واسطے تو یہ عشق کی ہمیں جائز اب ہے زکات بھی |
| ۔ |
| وہ جدا ہوا ہے ابھی ابھی ، کہ ہے زعمِ حسن میں مبتلا |
| تو بلا بھی لے تو نہ آئے گا ، ابھی وہ نہ سمجھے گا بات بھی |
| ۔ |
| دلِ بے خبر کی نہ بات کر ، یہ بھلے برے سے ہے بے نیاز |
| کبھی تو اڑا ہے فراق پر ، کبھی چاہتا ہے یہ ساتھ بھی |
| ۔ |
| کوئی معجزہ ہو کہ حادثہ مرے ذہن و دل سے مگر مٹیں |
| خط و خال زہرہ جمال بھی ، رہے یاد اس کی نہ بات بھی |
| ۔ |
| نہیں ایسی کوئی بھی شے یہاں کہ کبھی نہ جس کا ہو اختتام |
| دلِ جلد باز ذرا ٹھہر ، کبھی ختم ہو گی یہ رات بھی |
| ۔ |
| اسے تلخیاں شبِ ہجر کی ، جو ستائیں گی تو تُو دیکھنا |
| وہ پھر آئیگا تجھے دیکھنے تو کرے گا وصل کی بات بھی |
معلومات