| سورجوں میں شعاعیں باقی ہیں |
| حشر تک کی سزائیں باقی ہیں |
| زندگی بھی ستا رہی ہے مجھے |
| دے دو جو بد دعائیں باقی ہیں |
| ظلم سہنے کی خو پرانی ہے |
| کر لو جتنی جفائیں باقی ہیں |
| وہ دریچہ کبھی کھلے گا نہیں |
| دے لو جو بھی صدائیں باقی ہیں |
| مر کے جلنا ہی ہے اگر شاہدؔ |
| کر لو جتنی خطائیں باقی ہیں |
معلومات