| بھاگ جیسے ہی مسافر کے سنور آتے ہیں |
| تھکے قدموں کو وہیں خوابِ دگر آتے ہیں |
| مجھ کو یہ بات پرندوں کی پسند آئی ہے |
| شام ہوتے ہی سبھی لوٹ کے گھر آتے ہیں |
| ایک بندہ مجھے انگلی پہ نچا سکتا ہے |
| بات کرنے کے اسے لاکھ ہنر آتے ہیں |
| خامشی اوڑھ کے بیٹھا، یہ سمجھ آیا ہے |
| زخم گہرا ہو تو اشعار اتر آتے ہیں |
| دل کے صحرا میں اگر یاد کی بارش برسے |
| خشک آنکھوں میں کئی رنگ نکھر آتے ہیں |
| محمد اویس قرنی |
معلومات