ہم کئی بار خود اپنے سے مکر جاتے ہیں
آئنے سامنے آئیں تو بھی ڈر جاتے ہیں
ہم نے خط پھاڑ کے دریا میں بہائے پھر بھی
کچھ ورق ذہن کے اندر ہی ٹھہر جاتے ہیں
ایک مدت سے وہی شخص نہیں ہے لیکن
اس کے موسم مرے کمرے سے گزر جاتے ہیں
اپنی آواز بہت دور تلک جاتی ہے
لوٹتی ہے تو کئی لفظ بکھر جاتے ہیں
ایک چہرہ ہمیں آئینے میں ملتا ہے روز
عمر بڑھتی ہے تو کچھ نقش اتر جاتے ہیں
کوئی ناراض ہو، دروازہ کھلا رہنے دو
بعض رشتے کسی آہٹ سے سنور جاتے ہیں
ایک کمرے میں بہت دیر رہی خاموشی
لوگ آئے تو کئی فاصلے بھر جاتے ہیں
ہم جسے صرف شکایت ہی سمجھتے ہیں کبھی
غور سے سننے پہ کچھ درد ابھر جاتے ہیں
شاہدؔ کچھ لوگ ہمیں پڑھ بھی لیا کرتے ہیں
ہم جو خاموش رہیں، لفظ نکھر جاتے ہیں

0
2