جِن کی کونین پر داوَری ہے
اُن کی مِدحت مِری شاعری ہے
اُن کے باطن کا عالَم فَاَوْحٰی
حُسنِ اُسْوَہ پَھبَن ظاہری ہے
گھِر گیا ہوں فَریبِ فِتن میں
مجُھ کو درکار پھر یَاوری ہے
اپنے ہاتھوں سے توڑو مِرا دل
دل مِرا تو بُتِ آذری ہے
گَر ہیں پَیہم وَفائیں تو سمجھو
دَم بَدم ہر قَدم حاضری ہے
پھر سَجا ہے یہ ایوانِ مِدحت
بَزْم آرا تِرا قادری ہے
وقتِ آخر ہو مِدحت زُباں پر
اِلتجا بس یہی آخری ہے

2
9
ماشا اللہ
بہت خوب!

0
مرکزی خیال ایک جملے میں:

یہ کلام حضور ﷺ کی محبت، اتباع، اور ذکر کو دنیا و آخرت کی نجات اور سب سے بڑی سعادت قرار دیتا ہے۔

0