اک بات کا مجھ کو خدشہ ہے
یہ ذہن میں کس کا نقشہ ہے
یہ رات ستاتی ہے مجھ کو
تنہائی رلاتی ہے مجھ کو
میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
نہ طوعا ہوں نہ کرہا ہوں
بس یاد تمہاری آتی ہے
ہر لمحہ مجھ کو ستاتی ہے
آؤ نہ کبھی یادوں میں مرے
آؤ نہ کبھی خوابوں میں مرے
ابن یونس کی پھر سن لو
اور اپنا بنا کر تم چن لو
تاریخ لکھی جائے گی جب
بھولے بسرے انسانوں کی
تو یاد ہماری آئے گی
ہم مردوں اور جوانوں کی
اول میں نظر تم آؤ گی
اور ساتھ ہی مجھ کو پاؤگی

0
18