| کسی کو حال بتایا نہیں ہے تیرے بعد |
| کسی کو پاس بلایا نہیں ہے تیرے بعد |
| وہ کرسی آج بھی رکھی ہے میز کے نزدیک |
| کسی کو اس پہ بٹھایا نہیں ہے تیرے بعد |
| کسی نے ہاتھ بڑھایا تو یہ خبر بھی ہوئی |
| ہر ایک شخص پرایا نہیں ہے تیرے بعد |
| کسی کے دکھ پہ کبھی آنکھ بھر کے رویا ہوں |
| کسی کا غم بھی پرایا نہیں ہے تیرے بعد |
| کسی نے پھر سے محبت کا ذکر چھیڑا تھا |
| مگر وہ خواب سجایا نہیں ہے تیرے بعد |
| یہ جانتا ہوں کہ شاہدؔ بدل گیا ہوں بہت |
| کسی نے پہلے سا پایا نہیں ہے تیرے بعد |
معلومات