تم سامنے ہو تو دل میں روشنی رہتی ہے
نرم و نازک سی تازہ نمی رہتی ہے
تیری چاہت نے مجھے جینے کا ہنر بخشا
ترے بن دل کی دھڑکن میں بے کلی رہتی ہے
تیری باتوں سے ہوا کو بھی سکوں ملتا ہے
ورنہ موسم میں تو اکثر بے رخی رہتی ہے
تیرے ہاتھوں کے لمس سے ہر غم دور ہوا
ورنہ آنکھوں میں تو اکثر تیرگی رہتی ہے
اللہ کرے کہ سدا ہی شگفتہ رہو جانم
اس کی رحمت ہی سے تو شگفتگی رہتی ہے

0
4