متّفق ہم اگر نہیں ہوتے
اتنے شیر و شکر نہیں ہوتے
جاں کی بازی لگانی پڑتی ہے
معرکے یونہی سر نہیں ہوتے
کارواں کب کا لٹ چکا ہوتا
ہم اگر باخبر نہیں ہوتے
خوبصورت نہ ہوتی منزل تو
راستے پرخطر نہیں ہوتے
سارے اشعار کس کے اچھّے ہیں
سارے قطرے گہر نہیں ہوتے
جانتے ہیں خودی کا جو مفہوم
خود سے وہ بے خبر نہیں ہوتے
وہ زیادہ ہی پھڑپھڑاتے ہیں
جن پرندوں کے پر نہیں ہوتے
خود غرض جو بھی پیڑ ہیں شاعر
اُن پہ میٹھے ثمر نہیں ہوتے

1
8
بہت عمدہ - واہ واہ واہ

0