| دشمنی ظلم و ستم سے گو ہے تم کو تو پرانی |
| پر کبھی بن پائے آفت ظالموں پر ناگہانی؟ |
| ہر طرف ہیں بکھری لاشیں خوں بہے ہے آب مانند |
| ایسے میں پھر کس کو بھائے چھوٹی موٹی شادمانی |
| دل کہے ہے، لڑ پڑو اب، عقل بولے، جاں بچاؤ |
| ہائے امت تجھ پہ آئی جانے کیسی یہ گرانی |
| اک طرف بتلا کے نعمت رب جتائے ہم پہ احساں |
| اور دوجی سمت کھولے اس جہاں کی رائیگانی |
| اس زمیں پر لانے والی اک خطا آدم حوا کی |
| یہ کہانی آسمانی اور اس پر جاودانی |
| جن سے شیطاں روکتا ہے میرے رب کی یہ عطا ہے |
| ایسے میں پھر کیا تغافل؟ جب نمازیں ارمغانی |
| وعظ کرنا اس عمر میں تجھ پہ جچتا ہے مصدق |
| ہاں مگر بے جا گزاری تم نے اپنی بھی جوانی |
معلومات