زینت جمالِ ہستی تخلیق میں ہیں اولیٰ
کونین کا حسن ہیں مخلوق میں ہیں یکتا
ہر سمت روشنی ہے ہر چیز ہے منور
کس نورِ کبریا نے ہستی کو یوں نوازا
ہے عالمیں میں پہچاں نورِ مبین اُن کا
وجہِ جمالِ ہستی سرکار کا ہے چہرہ
محروم کب ہیں رہتے بردے حبیبِ رب کے
وعدہ خدائے واحد ہر حال میں ہے سچا
جب اس دلِ حزیں میں محشر سے وحشتیں ہوں
مولا رہے زباں پر جاری ذکر نبی کا
ناسوت کا سفر یہ منزل میں آرزو دے
اماں جو دے گزر میں سرکار کا ہے رستہ
محمود آس دل میں آ کر یہ ہی ہے ٹھہری
آقا کریں شفاعت ہے آخری سہارا

1
8
مجموعی مفہوم
یہ کلام درج ذیل مرکزی تصورات پر قائم ہے:
1۔ نورِ محمدی ﷺ → کائنات کی اصل روشنی
2۔ حقیقتِ محمدیہ → تخلیق کا پہلا سبب
3۔ جمالِ الٰہی کا مظہر → حضور ﷺ کی ذات
4۔ اتباعِ رسول ﷺ → نجات کا راستہ
5۔ شفاعت → آخری امید

0