اپنے آنے کی خبر سب کو سُنا رکھّی ہے
گو کہ بولے بھی پہ دھیمی ہی صدا رکھی ہے
جس کو سچ بولنا آتا تھا ہوا چپ کیوں ہے
اس کی آواز زمانے نے دبا رکھی ہے
آشیاں جس پہ بنانے کی تمنّا کی تھی
“پھر وہی شاخ ہواؤں نے ہلا رکھّی ہے”
ہم نے جس شخص کو سمجھا تھا فقط سنگِ مزار
اس نے آنکھوں میں بھی اک جھیل چھُپا رکھی ہے
دل کو دنیا کی طلب سے نہیں وابستہ کیا
ہم نے اک یاد تری دل میں بسا رکھی ہے
جس کو دنیا نے کہا ہارا ہوا فرد ہے وہ
اس نے امید کی اک شمع جلا رکھی ہے
ہم سے پوچھے کوئی آزادی بھلا چیز ہے کیا
ہم نے زنجیرِ تمنّا ہی کٹا رکھی ہے
وقت جب آیا تو چہروں سے نقابیں اُتریں
ہم نے ہر شخص کی تصویر بنا رکھی ہے
اپنے کردار کی خوشبو نہ ہوئی دور کبھی
ہم نے مٹی میں مہکنے کی ادا رکھی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ طارق کو زمانہ سمجھا
اس نے دنیا سے یہی بات چھپا رکھی ہے

0
5