| اپنے آنے کی خبر سب کو سُنا رکھّی ہے |
| گو کہ بولے بھی پہ دھیمی ہی صدا رکھی ہے |
| جس کو سچ بولنا آتا تھا ہوا چپ کیوں ہے |
| اس کی آواز زمانے نے دبا رکھی ہے |
| آشیاں جس پہ بنانے کی تمنّا کی تھی |
| “پھر وہی شاخ ہواؤں نے ہلا رکھّی ہے” |
| ہم نے جس شخص کو سمجھا تھا فقط سنگِ مزار |
| اس نے آنکھوں میں بھی اک جھیل چھُپا رکھی ہے |
| دل کو دنیا کی طلب سے نہیں وابستہ کیا |
| ہم نے اک یاد تری دل میں بسا رکھی ہے |
| جس کو دنیا نے کہا ہارا ہوا فرد ہے وہ |
| اس نے امید کی اک شمع جلا رکھی ہے |
| ہم سے پوچھے کوئی آزادی بھلا چیز ہے کیا |
| ہم نے زنجیرِ تمنّا ہی کٹا رکھی ہے |
| وقت جب آیا تو چہروں سے نقابیں اُتریں |
| ہم نے ہر شخص کی تصویر بنا رکھی ہے |
| اپنے کردار کی خوشبو نہ ہوئی دور کبھی |
| ہم نے مٹی میں مہکنے کی ادا رکھی ہے |
| لوگ کہتے ہیں کہ طارق کو زمانہ سمجھا |
| اس نے دنیا سے یہی بات چھپا رکھی ہے |
معلومات