بلاوا جب مدینے سے شہِ بطحا کا آئے گا
مرا افسردہ دل شوقِ سفر سے مسکرائے گا
بھروسہ ہے مجھے ان کی نگاہِ فیض و رحمت پر
بگڑ جائے گا گر رستہ، کرم ان کا دکھائے گا
مدینے کی گلی میں اس طرح کھو جانے کی دھن ہے
اگر ڈھونڈے گا کوئی بھی، تو مجھ کو پا نہ پائے گا
نظر جب آئے گا روضہ، بدل جائے گا سب عالم
ادب سے سر جھکے گا اور آنسو ڈب ڈ بائے گا
تصور جب بھی آئے گا دیارِ پاکِ آقا کا
اندھیرا دل کا چھٹ جائے گا، نُورِ جاں سمائے گا
الٰہی! اس دیارِ نُور میں اب موت آ جائے
کہ دُنیا میں یہ دل اب لوٹ کر جانا نہ چاہے گا

0
4