| آدمی آج بھی اندر کہیں انسان سا ہے |
| واپسی اُس کی ہو جنّت میں یہ امکان سا ہے |
| اس نے بازار میں رشتوں کی بھی قیمت رکھ دی |
| پھر بھی آنکھوں میں کہیں درد کا سامان سا ہے |
| وہ جو ہنستا ہے زمانے میں بہت خوش ہو کر |
| اس کے سینے میں کوئی غم ہے پریشان سا ہے |
| یوں تو مطلب کے لیے لوگ بدل جاتے ہیں |
| پھر بھی اچھا ہے نبھاتا کوئی پیمان سا ہے |
| جس نے نفرت کے اندھیروں میں محبت بانٹی |
| وہی اک شخص زمانے کا نگہبان سا ہے |
| ہم نے دیوار کو اونچا تو کیا ہے لیکن |
| کیا کریں گھر میں ہی کوئی ہے جو مہمان سا ہے |
| اپنی پہچان کی خاطر ہے جو نکلا گھر سے |
| اس کے قدموں میں نئے عہد کا ارمان سا ہے |
| وقت حالات سے انسان پرکھتا ہے مگر |
| کون مٹی میں چھپا گوہرِ تابان سا ہے |
| طارق اس دور میں انسان وہی ہے شاید |
| دوسروں کا بھی کسی ذہن میں گر دھیان سا ہے |
معلومات