جب مری راہ میں ظلمت نے بچھائے پتھر
بخدا اسمِ محمد نے ہٹائے پتھر
انکی نسلیں بھی ہیں مقروضِ دعائے احمد
وہ کہ جن لوگوں نے طائف میں اٹھائے پتھر
چلنے لگتے ہیں شجر اس کا اشارہ ہو اگر
بولنے لگتے ہیں جس ہاتھ پہ آئے پتھر
خوفِ دنیا میں حضور اہل حرم بھول گئے
کیسے لشکر پہ پرندوں نے گرائے پتھر
حیدر اس راہ میں کانٹوں کو بھی گل ہی جانو
جس پہ احمد کے گھرانے نے بھی کھائے پتھر

0
4