| یہ سفر شوق بھی ہے، صبر کا اکرام بھی ہے |
| یہ تو ہر نفس کی تطہیر کا پیغام بھی ہے |
| جا کے دیکھا ہے جہاں قبلۂ اربابِ یقیں |
| جس طرف جھکتی ہے صدیوں سے زمانے کی جبیں |
| یہ سفر عشق و اطاعت کا بس اعلان نہیں |
| زندگی بھر کا یہ عہدِ وفا، آسان نہیں |
| حج اگر روح میں اترے تو بدل دیتا ہے |
| ایک انسان نہیں، عہد بدل دیتا ہے |
| زمزمِ عشق نے جب روح کو سیراب کیا |
| خشک دل تھا جو، اسے چشمۂ بےتاب کیا |
| لب پہ لبیک تھا، دل میں بھی وہی نغمہ تھا |
| جسم احرام میں تھا، سامنے بس کعبہ تھا |
| یومِ عرفات میں دیکھی ہے قیامت کی جھلک |
| اشک گرتے تھے تو لگتا تھا کہ روتا ہے فلک |
| تم نے جمرات میں کنکر ہی نہیں پھینکے ہیں |
| اپنے باطن کے کئی بت بھی وہیں پھینکے ہیں |
| وہ مقدر تھا کہ سرکار ﷺ کے در پر پہنچے |
| یوں لگا رحمتِ عالم کے ہی گھر پر پہنچے |
| جب نظر گنبدِ خضریٰ پہ پڑی، دل رویا |
| یوں لگا عمر کا ہر زخم اسی دم دھویا |
| روضۂ پاک پہ جب عرضِ سلام آیا تھا |
| دل پہ صدیوں کا سکوں بن کے پیام آیا تھا |
| وہ مدینہ تھا کہ ہر سانس عبادت لگتی |
| ہر گلی عشقِ محمد ﷺ کی شہادت لگتی |
| اب یہی حج کی امانت ہے، سنبھالو اس کو |
| اپنی گفتار، عمل، فکر میں ڈھالو اس کو |
| مکہ دیتا ہے فقط دیدۂ کعبہ ہی نہیں |
| آدمی پہلے سا واپس کبھی آتا ہی نہیں |
| زندگی بھر کی یہی ایک دعا باقی ہے |
| دل میں لبیک کی ہر دم وہ صدا باقی ہے |
| یہ تمنا ہے کہ پھر اُس کے نگر کو پہنچیں |
| پھر وہی اشک لیے، اس کے ہی در کو پہنچیں |
| حج تو اک بار ہے، مقصود بدل جانا ہے |
| پھر اُسی حال میں دنیا سے گزر جانا ہے |
معلومات