مری داستاں کب سنائی گئی ہے
فقط مسکراہٹ دکھائی گئی ہے
جسے جاں کہا تھا اسی نے رلایا
وفا کی سزا یوں سنائی گئی ہے
تمہاری وہ آہٹ ابھی تک یہاں ہے
تمہاری نہ صورت بھلائی گئی ہے
لبوں پر ہنسی ہے مگر دل دکھی ہے
ہنسی میں مری آہ پائی گئی ہے
اندھیروں سے پوچھو مرے دل کی حالت
جہاں روشنی سب بجھائی گئی ہے

0
3