| مری داستاں کب سنائی گئی ہے |
| فقط مسکراہٹ دکھائی گئی ہے |
| جسے جاں کہا تھا اسی نے رلایا |
| وفا کی سزا یوں سنائی گئی ہے |
| تمہاری وہ آہٹ ابھی تک یہاں ہے |
| تمہاری نہ صورت بھلائی گئی ہے |
| لبوں پر ہنسی ہے مگر دل دکھی ہے |
| ہنسی میں مری آہ پائی گئی ہے |
| اندھیروں سے پوچھو مرے دل کی حالت |
| جہاں روشنی سب بجھائی گئی ہے |
معلومات