جس شمعِ ہدایت سے دارین درخشاں ہیں
نازاں ہے خدا اُن پر دلدارِ غریباں ہیں
کیا خوب جہاں دیکھے اُس رُوپ سے تابانی
جس حُسن سے سب چمکے گلزار و گلستاں ہیں
یہ فیض ہیں سرور سے آفاق جو روشن ہیں
ذیشان سخی دلبر دل اُن سے فروزاں ہیں
مختارِ دو عالم ہیں برہانِ خدا ہادی
کونین رواں اُن سے دارین کے دل جاں ہیں
فردوس کے کل گلشن ہیں عکسِ جمال اُن کا
یہ دہر میں سب رونق سرکار کے احساں ہیں
ہر ذرے میں ملتی ہے پہچان سدا اُن کی
دل جان یہ ہستی کے خود حاملِ قرآں ہیں
یہ نورِ جہاں سرور جو زینتِ عالم ہیں
دارین پہ رحمت ہیں ہر درد کے درماں ہیں
کرتے ہیں عنایت وہ ہر آن غلاموں پر
ہیں اُن کے کرم سب پر جو ہجر میں حیراں ہیں
محمود نبی سرور کونین کے ہیں دلبر
دل جانِ جہاں جن پر کس شان سے قرباں ہیں

0
1
5
مجموعی تاثر
یہ نعت:
عقیدت سے بھرپور ہے
کلاسیکی نعتیہ اسلوب رکھتی ہے
صوفیانہ رنگ بھی رکھتی ہے
الفاظ باوقار ہیں

0